21-Apr-2022 لیکھنی کی غزل -
غزل
وہ جو مرے خواب میں آنے لگے ہیں
سکوں میرے دل کا چرانے لگے ہیں
ستم پر ستم روز ڈھانے لگے ہیں
نگاہوں سے بجلی گرانے لگے ہیں
جو بچوں کے ہانتھوں میں آیا موبائل
بزرگوں کو اپنے بھلانے لگے ہیں
بندھا میرے سر پہ جو شہرت کا سہرا
بہت دشمنوں کے نشانے لگے ہیں
جیوں ہی میرے ہانتھوں میں آئینہ آیا
میرے اپنے نظریں چرانے لگے ہیں
وہ اپنی حویلی بنانے کی خاطر
نشاں جھونپڑی کے مٹانے لگے ہیں
ہمیں اب جلانے کی خاطر ہی فیصل
وہ غیروں سے الفت جتانے لگے ہیں
فیصل حبیب
لکھیم پور کھیری
یوپی
Faisal Habeeb
28-Apr-2022 01:01 AM
Shukriya AAP sab ka
Reply
Zainab Irfan
26-Apr-2022 08:13 PM
Nice
Reply
Shnaya
26-Apr-2022 03:35 PM
Very nice 👍🏼
Reply